جنیوا،26؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)عالمی سطح پر اراکین پارلیمان کی نمائندگی کرنے والی بین الاقوامی تنظیم کے مطابق دنیا بھر میں خواتین پارلیمان کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے یہاں تک کہ تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا معاملہ عام ہے۔انٹر پارلیمنٹری یونین (آئی پی یو)یہ رپورٹ جنیوا میں جاری اپنے سالانہ اجلاس میں جاری کر رہی ہے۔اس سروے میں صرف 55خواتین ارکان پارلیمان نے حصہ لیا لیکن وہ دنیا کے مختلف حصوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔ان میں سے 80فیصد ممبران پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ انھیں کسی نہ کسی شکل میں ذہنی یا جنسی طور ہراساں کیے جانے یا تشدد کا سامنا رہا ہے۔یہ رپورٹ اس وقت جاری کی جارہی ہے جب امریکی صدارتی انتخابات میں رپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کا اپنی حریف ہلیری کلنٹن کے بارے میں بیان اور ایک عرصے تک دوسری خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ان میں بعض ایسی بدسلوکیوں کا بھی ذکر ہے جس کا دنیا بھر میں خواتین اراکین پارلیمان کو اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کے دوران سامنا ہوتا ہے۔یورپ کی ایک خاتون رکن پارلیمان نے بتایا کہ انھیں ٹوئٹر پر صرف چار دنوں میں ریپ کے متعلق 500دھمکیا ملی تھیں۔اسی طرح ایشیا کی خاتون رہنما کا کہنا تھا کہ انھیں ان کے بیٹے، اس کے سکول، اس کی کلاس اور اس کی عمر کے ذکر کے ساتھ دھمکیاں ملی تھیں۔سروے میں شامل 65.5فیصد خواتین نے بتایا کہ جنسی زبان اور علامات کے ساتھ ان کی بے عزتی کی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مرد ساتھیوں کی جانب سے ذلیل و خوار کرنے والے ریمارکس عام ہیں۔زیمبیا میں جینڈر کی وزیر پروفیسر اینکانڈو لوؤ بتاتی ہیں کہ ہماری یہاں کی دنیا میں ۔۔۔ خواتین اراکین پارلیمان کے تعلق سے ہر طرح کی زبان کا استعمال ہوتا ہے۔انھوں نے بتایا کہ ایک بار ایک سیاستدان نے سرعام کہا تھا کہ وہ پارلیمنٹ اس لیے جانا چاہتے ہیں کیونکہ وہاں بہت سی خواتین ہیں اور وہاں میں جسے چاہوں اس کی جانب اشارہ کروں کہ مجھے کون سی چاہیے۔پروفیسر لوؤ نے کہا کہ اس واقعے کا ذکر پریس میں بھی آیا تھا کہ یہ دلچسپ اور قابل قبول ہے۔ اس طرح وہ خواتین کو ذلیل کرتے ہیں۔دریں اثنا کینیڈا کی سینیٹر سلمی عطا اللہ جان نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ سروے ان کے لیے نہیں تھا اور انھوں نے کہا تھا: 'میں کینیڈا سے تعلق رکھتی ہوں اور مجھے اس میں شامل ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔لیکن جب اس سروے کا جواب دے رہی تھی تو وہ بہت معلومات افزا تھا: 'ہم ایسے رکن پارلیمان کے ساتھ باہر جاتے ہیں، لوگوں سے ملتے ہیں اور مجھے وہ شخص یاد ہے جو میرے بہت قریب ہونا چاہتا تھا۔پہلے تو انھوں نے اس کے اشارے کنائے کو نظر انداز کر دیا تھا لیکن اب وہ یہ جان گئیں ہیں کہ نامناسب اور دھمکانے والے سلوک کیا ہیں۔